Shairi urdu




میں وہ تصویر ہوں جس کو مصور 

ادھورا چھوڑ کے خود رو پڑا



گزر رہی ہے بے لطف سی زندگی 

نا دل لگی میں مزہ نا دل لگانے میں



میری آنکھوں کو دیکھ کر ایک صاحب علم بولا 

تیری سنجیدگی بتاتی ہے تجھے ہنسنے کا شوق تھا



نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے 

مگر یہ بات بڑی دور جا نکلتی ہے 



جس کو خوش رہنے کے سامان میسر سب ہوں 

اس کو خوش رہنا بھی آۓ یہ ضروری تو نہیں




تم پوچھتے ہی نہیں پریشانی کی وجہ 

کچھ اس وجہ سے بھی پریشان ہوں میں


یہاں اداس ہے ہر ایک شخص 

کوئی اندر سے کوئی باہر سے



کتنی ویران سی رہ جاتی ہے دل کی بستی 

کتنے چپ چاپ سے چلے جاتے ہیں جانے والے



اداسیاں ہیں مگر وجہ غم معلوم نہیں 

دل پہ بوجھ سا ہے شاید بکھر گیا ہوں میں 



دفن ہیں مجھ میں کتنی رونقیں مت پوچھو

اجڑ اجڑ کر جو بستا رہا وہ شہر ہوں میں



میں سب کو ہنسانے والی لڑکی 

جب خدا سے اپنی باتیں کرتی ہوں

تو رو پڑتی ہوں



اداس زندگی اداس وقت اداس موسم


کتنی چیزوں پہ الزام لگ جاتے ہیں 

ایک اس کے بات نہ کرنے سے


مجھ سے ملنے لگے ہو جب سے 

الجھنیں بڑھنے لگی ہیں تب سے



ویرانیاں اندر کی 

اک قلب جانے اک رب جانے



ہنسنا تو مجبوری بن گئی ہے

صاحب

اداس ہوں گے تو لوگ سمجھیں گے

محبت میں ہار گئے ہیں

Post a Comment

0 Comments